بدل رہا ہے زمانہ تو میرے ٹھینگے سے

فیض الامین فیض

بدل رہا ہے زمانہ تو میرے ٹھینگے سے

فیض الامین فیض

MORE BYفیض الامین فیض

    بدل رہا ہے زمانہ تو میرے ٹھینگے سے

    ہے میرا طور پرانا تو میرے ٹھینگے سے

    جو چار پیسے ہیں مٹھی میں بس وہ میرے ہیں

    ہے تیرے پاس خزانہ تو میرے ٹھینگے سے

    کبھی لکیر کا بنتا نہیں فقیر وہ شخص

    اسے نہ مانو سیانا تو میرے ٹھینگے سے

    مری کہانی حقیقت پہ منحصر ہے مگر

    تجھے لگے ہے فسانہ تو میرے ٹھینگے سے

    تری پسند سے ملتی نہیں پسند مری

    یہی ہے ایک بہانہ تو میرے ٹھینگے سے

    عدو سے کرنا ہے سارا حساب چکتا فیضؔ

    اگر وہ جائے گا تھانہ تو میرے ٹھینگے سے

    مآخذ :
    • کتاب : Handwriting File Mail By Salim Saleem

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY