بدن ہے سبز اور شاداب لیکن روح پیاسی ہے

خورشید طلب

بدن ہے سبز اور شاداب لیکن روح پیاسی ہے

خورشید طلب

MORE BYخورشید طلب

    بدن ہے سبز اور شاداب لیکن روح پیاسی ہے

    مرے اندر ہزاروں بانجھ پیڑوں کی اداسی ہے

    کسی کے دل سے اب جذبات کا رشتہ نہیں قائم

    ہنسی بھی مصلحت آمیز آنسو بھی سیاسی ہے

    پئے اظہار کچھ ایسا نہیں ہے جو انوکھا ہو

    ہر اک جذبہ پرانا ہے ہر اک احساس باسی ہے

    ہمیں ہر وقت یہ احساس دامن گیر رہتا ہے

    پڑے ہیں ڈھیر سارے کام اور مہلت ذرا سی ہے

    سمٹ کر رہ گئی ہے وسعت دنیا ہتھیلی بھر

    ہمارا مسئلہ اب بھی ہماری خود شناسی ہے

    لگا ہوں میں طلبؔ اس سچ کو جھٹلانے میں برسوں سے

    میں کل آقا تھا جس کا اب مرے بیٹے کی داسی ہے

    مآخذ
    • کتاب : Ghazal Ke Rang (Pg. 144)
    • Author : Akram Naqqash, Sohil Akhtar
    • مطبع : Aflaak Publications, Gulbarga (2014)
    • اشاعت : 2014

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY