بدن کجلا گیا تو دل کی تابانی سے نکلوں گا

ظفر گورکھپوری

بدن کجلا گیا تو دل کی تابانی سے نکلوں گا

ظفر گورکھپوری

MORE BYظفر گورکھپوری

    بدن کجلا گیا تو دل کی تابانی سے نکلوں گا

    میں سورج بن کے اک دن اپنی پیشانی سے نکلوں گا

    نظر آ جاؤں گا میں آنسوؤں میں جب بھی روؤگے

    مجھے مٹی کیا تم نے تو میں پانی سے نکلوں گا

    تم آنکھوں سے مجھے جاں کے سفر کی مت اجازت دو

    اگر اترا لہو میں پھر نہ آسانی سے نکلوں گا

    میں ایسا خوبصورت رنگ ہوں دیوار کا اپنی

    اگر نکلا تو گھر والوں کی نادانی سے نکلوں گا

    ضمیر وقت میں پیوست ہوں میں پھانس کی صورت

    زمانہ کیا سمجھتا ہے کہ آسانی سے نکلوں گا

    یہی اک شے ہے جو تنہا کبھی ہونے نہیں دیتی

    ظفرؔ مر جاؤں گا جس دن پریشانی سے نکلوں گا

    ویڈیو
    This video is playing from YouTube

    Videos
    This video is playing from YouTube

    نامعلوم

    نامعلوم

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY