بدن کے دونوں کناروں سے جل رہا ہوں میں

عرفان صدیقی

بدن کے دونوں کناروں سے جل رہا ہوں میں

عرفان صدیقی

MORE BYعرفان صدیقی

    بدن کے دونوں کناروں سے جل رہا ہوں میں

    کہ چھو رہا ہوں تجھے اور پگھل رہا ہوں میں

    تجھی پہ ختم ہے جاناں مرے زوال کی رات

    تو اب طلوع بھی ہو جا کہ ڈھل رہا ہوں میں

    بلا رہا ہے مرا جامہ زیب ملنے کو

    تو آج پیرہن جاں بدل رہا ہوں میں

    غبار راہ گزر کا یہ حوصلہ بھی تو دیکھ

    ہوائے تازہ ترے ساتھ چل رہا ہوں میں

    میں خواب دیکھ رہا ہوں کہ وہ پکارتا ہے

    اور اپنے جسم سے باہر نکل رہا ہوں میں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY