بدن میں جیسے لہو تازیانہ ہو گیا ہے

عرفان صدیقی

بدن میں جیسے لہو تازیانہ ہو گیا ہے

عرفان صدیقی

MORE BY عرفان صدیقی

    بدن میں جیسے لہو تازیانہ ہو گیا ہے

    اسے گلے سے لگائے زمانہ ہو گیا ہے

    چمک رہا ہے افق تک غبار تیرہ شبی

    کوئی چراغ سفر پر روانہ ہو گیا ہے

    ہمیں تو خیر بکھرنا ہی تھا کبھی نہ کبھی

    ہوائے تازہ کا جھونکا بہانہ ہو گیا ہے

    غرض کہ پوچھتے کیا ہو مآل سوختگاں

    تمام جلنا جلانا فسانہ ہو گیا ہے

    فضائے شوق میں اس کی بساط ہی کیا تھی

    پرند اپنے پروں کا نشانہ ہو گیا ہے

    کسی نے دیکھے ہیں پت جھڑ میں پھول کھلتے ہوئے

    دل اپنی خوش نظری میں دوانہ ہو گیا ہے

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    بدن میں جیسے لہو تازیانہ ہو گیا ہے نعمان شوق

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Added to your favorites

    Removed from your favorites