بدن میں رنگ بھرے لہلہا رہے ہیں چراغ

بشیر فاروقی

بدن میں رنگ بھرے لہلہا رہے ہیں چراغ

بشیر فاروقی

MORE BYبشیر فاروقی

    بدن میں رنگ بھرے لہلہا رہے ہیں چراغ

    مہک رہی ہے فضا مسکرا رہے ہیں چراغ

    اجالے ڈوبے ہوئے ہیں گھنے اندھیروں میں

    عجب سفر ہے بہت یاد آ رہے ہیں چراغ

    خدا کرے کہ انہیں یہ ملاپ راس آئے

    ہواؤں سے جو تعلق بڑھا رہے ہیں چراغ

    سرور لمس کا اب شام لطف اٹھائے گی

    کہ دن گزر گیا نزدیک آ رہے ہیں چراغ

    تمام رات جلے اب یہ خوف کیسا ہے

    ہوائے صبح سے دامن بچا رہے ہیں چراغ

    وہ دے رہے ہیں ہمیں بجھ کے بھی پیام حیات

    ہمیں اندھیروں میں جینا سکھا رہے ہیں چراغ

    اجالے بانٹ رہے ہیں سیاہ راتوں کو

    یہ اور بات کہ خود کو جلا رہے ہیں چراغ

    وصال و ہجر کے موسم گزر گئے کہ بشیرؔ

    جلا رہے ہیں نہ ہم اب بجھا رہے ہیں چراغ

    مآخذ
    • کتاب : Dairon ke darmiyan (Pg. 31)
    • Author : Bashiir Faruqi
    • مطبع : Bashiir Faruqi (2009)
    • اشاعت : 2009

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY