بدن سندر سجل مکھ پر سنہاپا

ناصر شہزاد

بدن سندر سجل مکھ پر سنہاپا

ناصر شہزاد

MORE BY ناصر شہزاد

    بدن سندر سجل مکھ پر سنہاپا

    بہت انمول ہے اس کا سراپا

    سفر کی ابتدا بھی انتہا بھی

    وہی لوٹا کھسوٹی آپی دھاپا

    تو دیوی ہے نہ میں اوتار پھر بھی

    تجھے ہر جگ جنم میں جی نے جاپا

    جھروکوں سے اگر پڑوسی نہ جھانکیں

    ابھاگن تو بتا ہی لے رنڈاپا

    سکھی ری ہو نہ ہو سیاں ہے میرا

    ملن سر جس نے مرلی میں الاپا

    کبھی پاٹے چڑھے جل تیری خاطر

    کبھی تپتے بیابانوں کو ناپا

    چلی تھی خلد سے تو ساتھ تنہا

    یہاں آ کر بنی ماں بیٹی آپا

    گلابی ہو گئی وہ سر سے پا تک

    الاؤ پر جب اس نے ہاتھ تاپا

    تجا تھا سورگ کیوں سب یاد آیا

    پکی گندم کو جب درانتی سے کاپا

    کبھی تو مڑ کے تو دیکھے گی پیچھے

    کبھی تو کھائے گی رستے پہ تھاپا

    پیا اب تو پلٹ آ دیکھ آئی

    سفیدی سر پہ چہرے پر بڑھاپا

    جو گرجے وہ نہیں برسے کہیں بھی

    کیا جو تو نے تو اس کی سزا پا

    مآخذ:

    • Book: Ban Baas (Pg. 375)
    • Author: Naasir Shahzaad
    • مطبع: Alhamd Publications (2004)
    • اشاعت: 2004

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Added to your favorites

    Removed from your favorites