بڑے تحمل سے رفتہ رفتہ نکالنا ہے

عمیر نجمی

بڑے تحمل سے رفتہ رفتہ نکالنا ہے

عمیر نجمی

MORE BY عمیر نجمی

    بڑے تحمل سے رفتہ رفتہ نکالنا ہے

    بچا ہے جو تجھ میں میرا حصہ نکالنا ہے

    یہ روح برسوں سے دفن ہے تم مدد کرو گے

    بدن کے ملبے سے اس کو زندہ نکالنا ہے

    نظر میں رکھنا کہیں کوئی غم شناس گاہک

    مجھے سخن بیچنا ہے خرچہ نکالنا ہے

    نکال لایا ہوں ایک پنجرے سے اک پرندہ

    اب اس پرندے کے دل سے پنجرہ نکالنا ہے

    یہ تیس برسوں سے کچھ برس پیچھے چل رہی ہے

    مجھے گھڑی کا خراب پرزہ نکالنا ہے

    خیال ہے خاندان کو اطلاع دے دوں

    جو کٹ گیا اس شجر کا شجرہ نکالنا ہے

    میں ایک کردار سے بڑا تنگ ہوں قلم کار

    مجھے کہانی میں ڈال غصہ نکالنا ہے

    ویڈیو
    This video is playing from YouTube

    Videos
    This video is playing from YouTube

    جاوید نسیم

    جاوید نسیم

    Tagged Under

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY