بغیر اس کے یہ حیراں ہیں بغل دیکھ اپنی خالی ہم

جرأت قلندر بخش

بغیر اس کے یہ حیراں ہیں بغل دیکھ اپنی خالی ہم

جرأت قلندر بخش

MORE BY جرأت قلندر بخش

    بغیر اس کے یہ حیراں ہیں بغل دیکھ اپنی خالی ہم

    کہ کروٹ لے نہیں سکتے ہیں جوں تصویر قالی ہم

    کوئی آتش کا پرکالہ جو وقت خواب یاد آوے

    تو سمجھیں کیوں نہ انگارے یہ گل ہائے نہالی ہم

    ارادہ گر کیا دشنام دینے کا اب اے پیارے

    تو لب سے لب ملا کر بس تری کھا لیں گے گالی ہم

    نہ ہو پہلو میں اپنے جب وہ سبزہ رنگ ہی ظالم

    تو پھر کس رنگ کاٹیں یہ بلا سے رات کالی ہم

    لڑی ہے آنکھ اس سے جو یہ چتون میں جتاتا ہے

    کسی کی کیا ہمیں پروا ہیں اپنے لاابالی ہم

    نہ ہو وہ سیم تن پاس اپنے جب سیر شب مہ میں

    کریں تو دیکھ کیا بس ایک پیتل کی سی تھالی ہم

    جو ہو دور از خیال مانیؔ و بہزادؔ ہر صورت

    بغیر از مو قلم کھینچیں وہ تصویر خیالی ہم

    کریں وصف جمال یار میں اک شعر گر موزوں

    تو سمجھیں انتخاب جملہ اشعار جمالی ہم

    بہ کنج بے کسی پڑھتے ہیں جو ہم مرثیہ دل کا

    تو ہیں آپ ہی جوابی اور آپ ہی ہیں سوالی ہم

    وہ ڈوبا عطر میں ہو مست مئے مصروف سیر گل

    اور اس کو اس روش دیکھیں درون باغ خالی ہم

    گل امید تو شاید کہ اپنا بھی شگفتہ ہو

    تعجب کچھ نہیں گر پائیں پھل پاتے سہالی ہم

    زبس حالات عشق اب ہم پہ طاری ہے سدا جرأتؔ

    بہ طرز عاشقانہ کہتے ہیں اشعار حالیؔ ہم

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY