بہار آئی ہے مستانہ گھٹا کچھ اور کہتی ہے

اختر شیرانی

بہار آئی ہے مستانہ گھٹا کچھ اور کہتی ہے

اختر شیرانی

MORE BYاختر شیرانی

    بہار آئی ہے مستانہ گھٹا کچھ اور کہتی ہے

    مگر ان شوخ نظروں کی حیا کچھ اور کہتی ہے

    رہائی کی خبر کس نے اڑائی صحن گلشن میں

    اسیران قفس سے تو صبا کچھ اور کہتی ہے

    بہت خوش ہے دل ناداں ہوائے کوے جاناں میں

    مگر ہم سے زمانے کی ہوا کچھ اور کہتی ہے

    تو میرے دل کی سن آغوش بن کر کہہ رہا ہے کچھ

    تری نیچی نظر تو جانے کیا کچھ اور کہتی ہے

    مری جانب سے کہہ دینا صبا لاہور والوں سے

    کہ اس موسم میں دہلی کی ہوا کچھ اور کہتی ہے

    ہوئی مدت کے مے نوشی سے توبہ کر چکے اخترؔ

    مگر دہلی کی مستانہ فضا کچھ اور کہتی ہے

    مآخذ:

    • کتاب : Kulliyat-e-Akhtar Shirani (Pg. 260)
    • Author : Akhtar Shirani
    • مطبع : Modern Publishing House, Daryaganj New delhi (1997)
    • اشاعت : 1997

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY