بہت عرصہ گنہ گاروں میں پیغمبر نہیں رہتے

ناز خیالوی

بہت عرصہ گنہ گاروں میں پیغمبر نہیں رہتے

ناز خیالوی

MORE BYناز خیالوی

    بہت عرصہ گنہ گاروں میں پیغمبر نہیں رہتے

    کہ سنگ و خشت کی بستی میں شیشہ گر نہیں رہتے

    ادھوری ہر کہانی ہے یہاں ذوق تماشا کی

    کبھی نظریں نہیں رہتیں کبھی منظر نہیں رہتے

    بہت مہنگی پڑے گی پاسبانی تم کو غیرت کی

    جو دستاریں بچا لیتے ہیں ان کے سر نہیں رہتے

    مجھے نادم کیا کل رات دروازے نے یہ کہہ کر

    شریف انسان گھر سے دیر تک باہر نہیں رہتے

    خود آگاہی کی منزل عمر بھر ان کو نہیں ملتی

    جو کوچہ گرد اپنی ذات کے اندر نہیں رہتے

    پٹخ دیتا ہے ساحل پر سمندر مردہ جسموں کو

    زیادہ دیر تک اندر کے کھوٹ اندر نہیں رہتے

    بجا ہے زعم سورج کو بھی ناز اپنی تمازت پر

    ہمارے شہر میں بھی موم کے پیکر نہیں رہتے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY