بہت دن سے کوئی منظر بنانا چاہتے ہیں ہم

والی آسی

بہت دن سے کوئی منظر بنانا چاہتے ہیں ہم

والی آسی

MORE BYوالی آسی

    بہت دن سے کوئی منظر بنانا چاہتے ہیں ہم

    کہ جو کچھ کہہ نہیں سکتے دکھانا چاہتے ہیں ہم

    ہمارے شہر میں اب ہر طرف وحشت برستی ہے

    سو اب جنگل میں اپنا گھر بنانا چاہتے ہیں ہم

    ہمیں انجام بھی معلوم ہے لیکن نہ جانے کیوں

    چراغوں کو ہواؤں سے بچانا چاہتے ہیں ہم

    نہ جانے کیوں گلے میں چیخ بن جاتی ہیں آوازیں

    کبھی تنہائی میں جب گنگنانا چاہتے ہیں ہم

    کوئی آساں نہیں سچائی سے آنکھیں ملا لینا

    مگر سچائی سے آنکھیں ملانا چاہتے ہیں ہم

    کبھی بھولے سے بھی اب یاد بھی آتی نہیں جن کی

    وہی قصے زمانے کو سنانا چاہتے ہیں ہم

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    بہت دن سے کوئی منظر بنانا چاہتے ہیں ہم نعمان شوق

    مآخذ:

    • کتاب : Mom (Pg. 72)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY