بہت لمبا سفر تپتی سلگتی خواہشوں کا تھا

آزاد گلاٹی

بہت لمبا سفر تپتی سلگتی خواہشوں کا تھا

آزاد گلاٹی

MORE BYآزاد گلاٹی

    بہت لمبا سفر تپتی سلگتی خواہشوں کا تھا

    مگر سایا ہمارے سر پہ گزری ساعتوں کا تھا

    سروں پہ ہاتھ اپنے گھر کی بوسیدہ چھتوں کا تھا

    مگر محفوظ سا منظر ہمارے آنگنوں کا تھا

    کسی بھی سیدھے رستے کا سفر ملتا اسے کیوں کر

    کہ وہ مسدود خود اپنے بنائے دائروں کا تھا

    کبھی ہنستے ہوئے آنسو کبھی روتی ہوئی خوشیاں

    کرشمہ جو بھی تھا سارا ہماری ہی حسوں کا تھا

    خود اپنی کاوشوں سے ہم نے اپنی قسمتیں لکھیں

    مگر کچھ ہاتھ ان میں بھی ہمارے دشمنوں کا تھا

    نئے رشتے مقدس خواب سے آواز دیتے تھے

    مگر آسیب سا دل پر گزشتہ رابطوں کا تھا

    کسے ملتی نجات آزادؔ ہستی کے مسائل سے

    کہ ہر کوئی مقید آب و گل کے سلسلوں کا تھا

    مآخذ :
    • کتاب : Aab-e-Sharab (Pg. 37)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY