بہت راز ہیں زندگی سے بھی آگے

شوق مرادابادی

بہت راز ہیں زندگی سے بھی آگے

شوق مرادابادی

MORE BYشوق مرادابادی

    بہت راز ہیں زندگی سے بھی آگے

    مقام اور نہیں دوستی سے بھی آگے

    مریں تو ملیں زندگی کے اشارے

    مگر موت پھر زندگی سے بھی آگے

    بہت دور تک دب چلے روشنی میں

    اندھیرے ملے روشنی سے بھی آگے

    نہ اپنا پتہ ہے نہ ان کی خبر ہے

    کہاں آ گئے بے خودی سے بھی آگے

    نہ احساس مالک نہ احساس خدمت

    مقام آ گیا بندگی سے بھی آگے

    نظر جم گئی روئے تاباں پہ آخر

    ہے کچھ اور نظارگی سے بھی آگے

    عبادت کے لاکھوں طریقے ہیں لیکن

    ہوا نے کوئی زندگی سے بھی آگے

    کوئی دیوتا ہو کوئی ہو فرشتہ

    چلا نے کوئی آدمی سے بھی آگے

    ہوا صاف دل تو یہ آواز آئی

    گیا شوقؔ اب راستی سے بھی آگے

    غم زندگی میں سکوں مل گیا ہے

    نکل آئے دل کی لگی سے بھی آگے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY