بہت تھا خوف جس کا پھر وہی قصا نکل آیا

بشر نواز

بہت تھا خوف جس کا پھر وہی قصا نکل آیا

بشر نواز

MORE BYبشر نواز

    بہت تھا خوف جس کا پھر وہی قصا نکل آیا

    مرے دکھ سے کسی آواز کا رشتا نکل آیا

    وہ سر سے پاؤں تک جیسے سلگتی شام کا منظر

    یہ کس جادو کی بستی میں دل تنہا نکل آیا

    جن آنکھوں کی اداسی میں بیاباں سانس لیتے ہیں

    انہیں کی یاد میں نغموں کا یہ دریا نکل آیا

    سلگتے دل کے آنگن میں ہوئی خوابوں کی پھر بارش

    کہیں کونپل مہک اٹھی کہیں پتا نکل آیا

    پگھل اٹھتا ہے اک اک لفظ جن ہونٹوں کی حدت سے

    میں ان کی آنچ پی کر اور بھی سچا نکل آیا

    گماں تھا زندگی بے سمت و بے منزل بیاباں ہے

    مگر اک نام پر پھولوں بھرا رستا نکل آیا

    مأخذ :
    • کتاب : Karwaan-e-Ghazal (Pg. 247)
    • Author : Farooq Argali
    • مطبع : Farid Book Depot (Pvt.) Ltd (2004)
    • اشاعت : 2004

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY