بیٹھو یاں بھی کوئی پل کیا ہوگا

نظیر اکبرآبادی

بیٹھو یاں بھی کوئی پل کیا ہوگا

نظیر اکبرآبادی

MORE BYنظیر اکبرآبادی

    بیٹھو یاں بھی کوئی پل کیا ہوگا

    ہم بھی عاشق ہیں خلل کیا ہوگا

    دل ہی ہو سکتا ہے اور اس کے بغیر

    جان من دل کا بدل کیا ہوگا

    حسن کے ناز اٹھانے کے سوا

    ہم سے اور حسن عمل کیا ہوگا

    کل کا اقرار جو میں کر کے اٹھا

    بولا بیٹھ اور بھی چل کیا ہوگا

    تو جو کل آنے کو کہتا ہے نظیرؔ

    تجھ کو معلوم ہے کل کیا ہوگا

    مآخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY