بجا کہ نقش کف پا پہ سر بھی رکھنا ہے

وقار مانوی

بجا کہ نقش کف پا پہ سر بھی رکھنا ہے

وقار مانوی

MORE BYوقار مانوی

    بجا کہ نقش کف پا پہ سر بھی رکھنا ہے

    مگر بلند مقام نظر بھی رکھنا ہے

    سخاوت ایسی دکھائی کہ گھر لٹا بیٹھے

    نہ سوچا یہ بھی کہ کچھ اپنے گھر بھی رکھنا ہے

    ہوں زخم زخم کہاں تک میں چارہ گر سے کہوں

    ادھر بھی رکھنا ہے مرہم ادھر بھی رکھنا ہے

    یہ جبر دیکھو کہ رہنا بھی ہے سر مقتل

    ہر ایک وار بھی سہنا ہے سر بھی رکھنا ہے

    رہ حیات میں تھکنا بھی ہے یقینی سا

    پھر اپنے آپ کو وقف سفر بھی رکھنا ہے

    الٰہی خیر کہ طوفان باد و باراں میں

    ہمیں بچانا ہے خود کو بھی گھر میں رکھنا ہے

    یہ کیا ستم ہے کہ صیاد ہم اسیروں کو

    رہا بھی کرنا ہے بے بال و پر بھی رکھنا ہے

    کسے بتائیں کہ غم اس کی بے نیازی کا

    وہ غم ہے جس سے اسے بے خبر بھی رکھنا ہے

    مسافرو ابھی منزل کے ہیں پڑاؤ بہت

    اسی حساب سے زاد سفر بھی رکھنا ہے

    یہ عذر ہے کہ انہیں نیند آنے لگتی ہے

    بیان قصۂ غم مختصر بھی رکھنا ہے

    وقارؔ تم سخن و آگہی سے گزرے ہو

    تمہی کو پاس وقارؔ ہنر بھی رکھنا ہے

    مآخذ :
    • کتاب : Waqar-e-Hunar (Pg. 90)
    • Author : Mohammad Zahiir
    • مطبع : Waqar Manvi, Sui walan, Darya Ganj, Delhi (1998)
    • اشاعت : 1998

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY