بلا کی دھوپ میں ایسے بھی جسم جلتا رہا

نبیل احمد نبیل

بلا کی دھوپ میں ایسے بھی جسم جلتا رہا

نبیل احمد نبیل

MORE BYنبیل احمد نبیل

    بلا کی دھوپ میں ایسے بھی جسم جلتا رہا

    بدن کا سایہ جو اپنے سروں سے ڈھلتا رہا

    ڈھلی نہ شام الم جب تلک سحر نہ ہوئی

    بجھے چراغ کی لو سے دھواں نکلتا رہا

    ملی نہ منزل مقصود اس لیے بھی مجھے

    میں ہر قدم پہ نیا راستہ بدلتا رہا

    جہاں بھی آنکھ چرائی سفر میں سورج نے

    کوئی ستارہ مرے ساتھ ساتھ چلتا رہا

    بس ایک عمر گنوا کر قبولیت کی نبیلؔ

    تمام عمر میں ہاتھوں کو اپنے ملتا رہا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY