بن کے خوشبو جو چل پڑی ہے ابھی

عارف اعظمی

بن کے خوشبو جو چل پڑی ہے ابھی

عارف اعظمی

MORE BYعارف اعظمی

    بن کے خوشبو جو چل پڑی ہے ابھی

    کوئی تازہ کلی کھلی ہے ابھی

    عین ممکن ہے یاد ہو ان کی

    دل میں اک شمع سی جلی ہے ابھی

    کیوں کھٹکتی ہے سب کی نظروں میں

    شاخ نازک پہ جو کلی ہے ابھی

    اس کے سائے میں امن پلتا تھا

    وہ جو دیوار اک گری ہے ابھی

    بے خبر کیسے ہو گئے رہبر

    زندگی راہ میں پڑی ہے ابھی

    نفرتوں کا اثر ہے یہ شاید

    دل پہ جو گرد سی جمی ہے ابھی

    کوئی عارفؔ وفا کا کام کرو

    آدمیت بہت دکھی ہے ابھی

    مآخذ:

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY