بنے یہ زہر ہی وجہ شفا جو تو چاہے

مجید امجد

بنے یہ زہر ہی وجہ شفا جو تو چاہے

مجید امجد

MORE BY مجید امجد

    بنے یہ زہر ہی وجہ شفا جو تو چاہے

    خرید لوں میں یہ نقلی دوا جو تو چاہے

    یہ زرد پنکھڑیاں جن پر کہ حرف حرف ہوں میں

    ہوائے شام میں مہکیں ذرا جو تو چاہے

    تجھے تو علم ہے کیوں میں نے اس طرح چاہا

    جو تو نے یوں نہیں چاہا تو کیا جو تو چاہے

    جب ایک سانس گھسے ساتھ ایک نوٹ پسے

    نظام زر کی حسیں آسیا جو تو چاہے

    بس اک تری ہی شکم سیر روح ہے آزاد

    اب اے اسیر کمند ہوا جو تو چاہے

    ذرا شکوہ دوعالم کے گنبدوں میں لرز

    پھر اس کے بعد تیرا فیصلہ جو تو چاہے

    سلام ان پہ تہ تیغ بھی جنہوں نے کہا

    جو تیرا حکم جو تیری رضا جو تو چاہے

    جو تیرے باغ میں مزدوریاں کریں امجدؔ

    کھلیں وہ پھول بھی اک مرتبہ جو تو چاہے

    ویڈیو
    This video is playing from YouTube

    Videos
    This video is playing from YouTube

    مجید امجد

    مجید امجد

    مآخذ:

    • کتاب : Kulliyaat-e-majiid Amjad (Pg. 716)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY