بنتے بنتے اپنے پیچ و خم بنے

شاہین عباس

بنتے بنتے اپنے پیچ و خم بنے

شاہین عباس

MORE BYشاہین عباس

    بنتے بنتے اپنے پیچ و خم بنے

    تو بنا پھر میں بنا پھر ہم بنے

    ایک آنسو تھا گرا اور چل پڑا

    ایک عالم تھا سو دو عالم بنے

    اک قدم اٹھا کہیں پہلا قدم

    خاک اڑی اور اپنے سارے غم بنے

    اپنی آوازوں کو چپ رہ کر سنا

    تب کہیں جا کر یہ زیر و بم بنے

    آنکھ بننے میں بہت دن لگ گئے

    دیکھیے کب آنکھ اندر نم بنے

    زخم کو بے رہ روی میں رہ ملی

    خون کے چھینٹے اڑے عالم بنے

    ہم کہاں تھے اس سمے اس وقت جب

    تیرے اندر کے یہ سب موسم بنے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY