برس کر کھل گیا ابر خزاں آہستہ آہستہ

احمد مشتاق

برس کر کھل گیا ابر خزاں آہستہ آہستہ

احمد مشتاق

MORE BYاحمد مشتاق

    برس کر کھل گیا ابر خزاں آہستہ آہستہ

    ہوا میں سانس لیتے ہیں مکاں آہستہ آہستہ

    بہت عرصہ لگا رنگ شفق معدوم ہونے میں

    ہوا تاریک نیلا آسماں آہستہ آہستہ

    کہیں پتوں کے اندر دھیمی دھیمی سرسراہٹ ہے

    ابھی ہلنے لگیں گی ڈالیاں آہستہ آہستہ

    جہاں ڈالے تھے اس نے دھوپ میں کپڑے سکھانے کو

    ٹپکتی ہیں ابھی تک رسیاں آہستہ آہستہ

    سماعت میں ابھی تک آہٹوں کے پھول کھلتے ہیں

    کوئی چلتا ہے دل کے درمیاں آہستہ آہستہ

    بدل جائے گا موسم درد کی شاخ برہنہ میں

    نکلتی آ رہی ہیں پتیاں آہستہ آہستہ

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    برس کر کھل گیا ابر خزاں آہستہ آہستہ نعمان شوق

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY