برپا ہیں عجب شورشیں جذبات کے پیچھے

جنید حزیں لاری

برپا ہیں عجب شورشیں جذبات کے پیچھے

جنید حزیں لاری

MORE BYجنید حزیں لاری

    برپا ہیں عجب شورشیں جذبات کے پیچھے

    بے تاب ہے دل شوق ملاقات کے پیچھے

    جن کو نہ سمجھ پائے ہم ارباب نظر بھی

    سو راز ہیں اس شوخ کی ہر بات کے پیچھے

    اس ٹھوس حقیقت سے تعرض نہیں ممکن

    اک صبح تجلی ہے ہر اک رات کے پیچھے

    ارباب وطن ہم کو ذرا یہ تو بتائیں

    کن ذہنوں کی سازش ہے فسادات کے پیچھے

    منظر ہے لہو رنگ سلگتی ہیں فضائیں

    شعلوں کا وہ سیلاب ہے برسات کے پیچھے

    ہم ان کو سمجھتے ہیں حزیںؔ کہہ نہیں سکتے

    اسباب جو ہیں تلخئ حالات کے پیچھے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY