برسوں پہلے چلتے چلتے یوں ہی اٹھا لایا

ششی کانت ورما

برسوں پہلے چلتے چلتے یوں ہی اٹھا لایا

ششی کانت ورما

MORE BYششی کانت ورما

    برسوں پہلے چلتے چلتے یوں ہی اٹھا لایا

    کالی راتوں سے میں اک روشنی اٹھا لایا

    عشق کو وہیں چھوڑ آیا میں حال پر اس کے

    عشق میں سے پر اپنی بندگی اٹھا لایا

    سرخ سے کسی کپڑے کو لپیٹے آئی شام

    مانو آسماں اس کی اوڑھنی اٹھا لایا

    پوچھی جب مثال اس کے حسن کی کسی نے تو

    پھول کی میں نازک سی پنکھڑی اٹھا لایا

    یہ بھی اک عنایت ہے اس کے پہلو سے حاصل

    یعنی جب بھی آیا میں تازگی اٹھا لایا

    چوما میں نے اس کا ماتھا بڑی محبت سے

    اور ہونٹوں پر اپنے شاعری اٹھا لایا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY