بس اب ترک تعلق کے بہت پہلو نکلتے ہیں

انور مسعود

بس اب ترک تعلق کے بہت پہلو نکلتے ہیں

انور مسعود

MORE BYانور مسعود

    بس اب ترک تعلق کے بہت پہلو نکلتے ہیں

    سو اب یہ طے ہوا ہے شہر سے سادھو نکلتے ہیں

    ہم آ نکلے عجب سے ایک صحرائے محبت میں

    شکاری کے تعاقب میں یہاں آہو نکلتے ہیں

    یہ اک منظر بہت ہے عمر بھر حیران رہنے کو

    کہ مٹی کے مساموں سے بھی رنگ و بو نکلتے ہیں

    ضمیر سنگ تجھ کو تیرا پیکر ساز آ پہنچا

    ابھی آنکھیں ابھرتی ہیں ابھی آنسو نکلتے ہیں

    کوئی نادر خزینہ ہے مرے دست تصرف میں

    جھپٹنے کو در و دیوار سے بازو نکلتے ہیں

    میں اپنے دشمنوں کا کس قدر ممنون ہوں انورؔ

    کہ ان کے شر سے کیا کیا خیر کے پہلو نکلتے ہیں

    مآخذ :
    • کتاب : ik daraicha ik chirag (Pg. 63)
    • Author : ANWAR MASOOD
    • مطبع : Dost Publications (2008)
    • اشاعت : 2008

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY