بس دیکھ رہا ہوں مرا پیمانہ کہاں ہے

شوق اثر رامپوری

بس دیکھ رہا ہوں مرا پیمانہ کہاں ہے

شوق اثر رامپوری

MORE BYشوق اثر رامپوری

    بس دیکھ رہا ہوں مرا پیمانہ کہاں ہے

    اللہ مری جرأت رندانہ کہاں ہے

    پڑ جائیں نہ اس پر غم دنیا کی نگاہیں

    اے بھولنے والے مرا افسانہ کہاں ہے

    اب مجھ کو دکھائے نہ خدا ہوش کا عالم

    وہ پوچھ رہے ہیں مرا دیوانہ کہاں ہے

    مجھ رند الستی کو کہاں ہوش کہ دیکھوں

    کعبہ ہے کدھر اور صنم خانہ کہاں ہے

    ساقی تری محفل سے نہیں جائیں گے کیا یہ

    لا برہمن و شیخ کا نذرانہ کہاں ہے

    یہ تو حرم و دیر ہیں چلتی ہے جہاں تیغ

    چلتے ہیں جہاں جام وہ مے خانہ کہاں ہے

    تم شوقؔ بجا کہتے ہو لیکن یہ بتاؤ

    دنیا میں سب اپنے ہیں تو بیگانہ کہاں ہے

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY