بس ایک بار کسی نے گلے لگایا تھا

ظفر اقبال

بس ایک بار کسی نے گلے لگایا تھا

ظفر اقبال

MORE BY ظفر اقبال

    بس ایک بار کسی نے گلے لگایا تھا

    پھر اس کے بعد نہ میں تھا نہ میرا سایا تھا

    گلی میں لوگ بھی تھے میرے اس کے دشمن لوگ

    وہ سب پہ ہنستا ہوا میرے دل میں آیا تھا

    اس ایک دشت میں سو شہر ہو گئے آباد

    جہاں کسی نے کبھی کارواں لٹایا تھا

    وہ مجھ سے اپنا پتا پوچھنے کو آ نکلے

    کہ جن سے میں نے خود اپنا سراغ پایا تھا

    مرے وجود سے گلزار ہو کے نکلی ہے

    وہ آگ جس نے ترا پیرہن جلایا تھا

    مجھی کو طعنۂ غارت گری نہ دے پیارے

    یہ نقش میں نے ترے ہاتھ سے مٹایا تھا

    اسی نے روپ بدل کر جگا دیا آخر

    جو زہر مجھ پہ کبھی نیند بن کے چھایا تھا

    ظفرؔ کی خاک میں ہے کس کی حسرت تعمیر

    خیال و خواب میں کس نے یہ گھر بنایا تھا

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    بس ایک بار کسی نے گلے لگایا تھا نعمان شوق

    Tagged Under

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY