بس وہی وہ دکھائی دیتے ہیں

واصف یار

بس وہی وہ دکھائی دیتے ہیں

واصف یار

MORE BYواصف یار

    بس وہی وہ دکھائی دیتے ہیں

    ایک کے دو دکھائی دیتے ہیں

    جتنے ہرجائی ہم نے دیکھے ہیں

    اتنے کس کو دکھائی دیتے ہیں

    وہ یہاں ہیں نہیں پتہ ہے ہمیں

    پھر بھی ہم کو دکھائی دیتے ہیں

    دل کو بہلانا ہی تو مقصد ہے

    فرض کر لو دکھائی دیتے ہیں

    جیسے ہم تم کو صاف دیکھتے ہیں

    ویسے تم کو دکھائی دیتے ہیں

    تاب نظارہ باقی ہے کہ گئی

    اور دیکھو دکھائی دیتے ہیں

    جو زمانے کو دیکھتے بھی نہیں

    وہ انہیں کو دکھائی دیتے ہیں

    شعر پڑھتے ہیں آپ جب واصفؔ

    داستاں گو دکھائی دیتے ہیں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY