بس یہی سوچ کے رہتا ہوں میں زندہ اس میں

فیضان ہاشمی

بس یہی سوچ کے رہتا ہوں میں زندہ اس میں

فیضان ہاشمی

MORE BYفیضان ہاشمی

    بس یہی سوچ کے رہتا ہوں میں زندہ اس میں

    یہ محبت ہے کوئی مر نہیں سکتا اس میں

    یہ بھی دروازہ ہے اس گھر میں اسے کھولیں تو

    رات کھل جاتی ہے کھلتا نہیں کمرہ اس میں

    پھول تو پھول میں پتی بھی نہیں توڑوں گا

    تجھ سے ثابت ہی نہ ہوگا مرا ہونا اس میں

    تو نے دو شخص اتارے تھے یہ میں جانتا ہوں

    میں نے بھی شعر کہے ہیں بہت اعلیٰ اس میں

    آخری عشق کے آغاز پہ دم توڑتا ہوں

    میں کوئی دم دما دم دم نہیں کرتا اس میں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY