بشر بشر سے گریزاں ہے دیکھیے کیا ہو

ابرار عابد

بشر بشر سے گریزاں ہے دیکھیے کیا ہو

ابرار عابد

MORE BYابرار عابد

    بشر بشر سے گریزاں ہے دیکھیے کیا ہو

    اک انقلاب نمایاں ہے دیکھیے کیا ہو

    فقط جنوں ہی نہیں اب کے موسم گل میں

    خرد بھی چاک گریباں دیکھیے کیا ہو

    رہ حیات کی دشواریاں ارے توبہ

    ثبات عزم بھی لرزاں ہے دیکھیے کیا ہو

    بدل تو سکتی ہے نیرنگیٔ فریب سحر

    یقیں نہیں مگر امکاں ہے دیکھیے کیا ہو

    جسے بھی دیکھیے عابدؔ حیات سے بیزار

    ہر ایک شخص پریشاں ہے دیکھیے کیا ہو

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY