بستیاں کیسے نہ ممنون ہوں دیوانوں کی

مختار صدیقی

بستیاں کیسے نہ ممنون ہوں دیوانوں کی

مختار صدیقی

MORE BYمختار صدیقی

    بستیاں کیسے نہ ممنون ہوں دیوانوں کی

    وسعتیں ان میں وہی لائے ہیں ویرانوں کی

    کل گنے جائیں گے زمرے میں ستم رانوں کے

    خیر مانگیں گے اگر آج ستم رانوں کی

    خواب باطل بھی تو ہوتے ہیں تن آسانوں کے

    سعیٔ مشکور بھی ہوتی ہے گراں جانوں کی

    زخم شاکی ہیں ازل سے نمک افشانوں کے

    بات رکھی گئی ہر دور میں پیکانوں کی

    وہ بنا ساز بھی ہوتے ہیں گلستانوں کے

    خاک جو چھانتے پھرتے ہیں بیابانوں کی

    ٹکڑے جو گنتے ہیں ٹوٹے ہوئے پیمانوں کے

    جان بن جاتے ہیں آخر وہی مے خانوں کی

    تیور آتے ہیں حقیقت میں بھی افسانوں کے

    کچھ حقیقت بھی ہوا کرتی ہے افسانوں کی

    ہو بھی جاتے ہیں رفو چاک گریبانوں کے

    تنگ بھی ہوتی ہے پہنائیاں دامانوں کی

    عبرت آباد بھی دل ہوتے ہیں انسانوں کے

    داد ملتی بھی نہیں خوں شدہ ارمانوں کی

    ذرے زندان ملامت بھی ہیں ویرانوں کے

    در بنا کرتی ہیں دیواریں ہی زندانوں کی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY