بتائے دیتی ہے بے پوچھے راز سب دل کے

بیدم شاہ وارثی

بتائے دیتی ہے بے پوچھے راز سب دل کے

بیدم شاہ وارثی

MORE BYبیدم شاہ وارثی

    بتائے دیتی ہے بے پوچھے راز سب دل کے

    نگاہ شوق کسی کی نگاہ سے مل کے

    نکالے حوصلے مقتل میں اپنے بسمل کے

    نثار تیغ کے قربان ایسے قاتل کے

    میں اس پہ صدقے جو جائے کسی کی یاد میں جاں

    کسی کو چاہے میں قربان جاؤں اس دل کے

    بڑی اداؤں سے لی جان اپنے کشتے کی

    ہزار بار میں قربان اپنے قاتل کے

    غبار قیس نہیں ہے تو کون ہے لیلیٰ

    کوئی تو ہے کہ جو پھرتا ہے گرد محمل کے

    وہ پھوٹ بہنے میں مشاق ہیں یہ رونے میں

    رہیں گے دب کے نہ آنکھوں سے آبلے دل کے

    مہار ناقۂ لیلیٰ تو کھینچ لے اے آہ

    ہٹا دے دست طلب بڑھ کے پردے محمل کے

    وہ دل میں ہیں مگر آنکھوں سے دور ہیں بیدمؔ

    پڑا ہوا ہوں میں پیاسا قریب ساحل کے

    مأخذ :
    • کتاب : jigar parah armagaan bedam shaah (Pg. 43)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے