بیاباں دور تک میں نے سجایا تھا

غلام محمد قاصر

بیاباں دور تک میں نے سجایا تھا

غلام محمد قاصر

MORE BYغلام محمد قاصر

    بیاباں دور تک میں نے سجایا تھا

    مگر وہ شہر کے رستے سے آیا تھا

    دیئے کی آرزو کو جب بجھایا تھا

    پھر اس کے بعد آہٹ تھی نہ سایہ تھا

    اسے جب دیکھنے کے بعد دیکھا تو

    وہ خود بھی دل ہی دل میں مسکرایا تھا

    دل و دیوار تھے اک نام کی زد پر

    کہیں لکھا کہیں میں نے مٹایا تھا

    ہزاروں اس میں رہنے کے لیے آئے

    مکاں میں نے تصور میں بنایا تھا

    جہاں نے مجھ کو پہلے ہی خبر کر دی

    کبوتر دیر سے پیغام لایا تھا

    چلے ملاح کشتی گیت امیدیں

    کہ جیسے سب کو ساحل نے بلایا تھا

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    بیاباں دور تک میں نے سجایا تھا نعمان شوق

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY