بیاں اے ہم نشیں غم کی حکایت اور ہو جاتی

واصف دہلوی

بیاں اے ہم نشیں غم کی حکایت اور ہو جاتی

واصف دہلوی

MORE BYواصف دہلوی

    بیاں اے ہم نشیں غم کی حکایت اور ہو جاتی

    ذرا ہم خستہ حالوں کی طبیعت اور ہو جاتی

    نصیحت حضرت واعظ کی سنتے بھی تو کیا ہوتا

    یہی ہوتا کہ ہم کو ان سے وحشت اور ہو جاتی

    بہت اچھا ہوا آنسو نہ نکلے میری آنکھوں سے

    بپا محفل میں اک تازہ قیامت اور ہو جاتی

    تڑپ کر دل نے منزل پر مجھے چونکا دیا ورنہ

    خدا جانے کہ طے کتنی مسافت اور ہو جاتی

    تمہارے نام سے ہے بیکسوں کا نام وابستہ

    بلا لیتے اگر در پر تو نسبت اور ہو جاتی

    بہت سستے رہے نیچی نظر سے دل لیا تم نے

    اگر نظریں بھی مل جاتیں تو قیمت اور ہو جاتی

    شرف بخشا ہے تم نے آج مجھ کو ہم کلامی کا

    کہوں کچھ دل کی بات اتنی اجازت اور ہو جاتی

    زہے قسمت نوازا ہے جواب خط سے واصفؔ کو

    دکھاتے اک جھلک اتنی عنایت اور ہو جاتی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY