بے گناہ قتل ہوتے جاتے ہیں (ردیف .. د)

میر یٰسین علی خاں

بے گناہ قتل ہوتے جاتے ہیں (ردیف .. د)

میر یٰسین علی خاں

MORE BYمیر یٰسین علی خاں

    بے گناہ قتل ہوتے جاتے ہیں

    صبر کا امتحان ہے شاید

    مرنے والوں کو بھول جاتے ہیں

    جان ہے تو جہان ہے شاید

    وہ کبھی میرے دل میں رہتے ہیں

    یہ بھی ان کا مکان ہے شاید

    اپنی ہستی بھی یاں ہے کوئی چیز

    ایک وہم و گمان ہے شاید

    ہے جو ہر شے میں ہر جگہ موجود

    وہ خدا بے نشان ہے شاید

    شیخ حوروں پہ جان دیتے ہیں

    دل ابھی تک جوان ہے شاید

    جن کا پھیکا ہے بے مزہ پکوان

    ان کی اونچی دکان ہے شاید

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY