بے خود ہیں بے خودی کی سزا پا رہے ہیں ہم
بے خود ہیں بے خودی کی سزا پا رہے ہیں ہم
مثل حباب بن کے مٹے جا رہے ہیں ہم
معبود کون مشق عبادت تھے کس لیے
ناحق یہ بوجھ سر پہ لیے جا رہے ہیں ہم
واعظ شراب پینے دے ہم سے گلہ نہ کر
ساقی پلا رہا ہے پئے جا رہے ہیں ہم
ہوگی تری گزر نہ کبھی جس دیار میں
زاہد ہمیں نہ چھیڑ وہیں جا رہے ہیں ہم
آنندؔ کے کرشمے سبھی سوز و ساز ہیں
ہر نے میں صوت غیب سنے جا رہے ہیں ہم
- کتاب : غزل اس نے چھیڑی-5 (Pg. 137)
- Author : فرحت احساس
- مطبع : ریختہ بکس ،بی۔37،سیکٹر۔1،نوئیڈا،اترپردیش۔201301 (2018)
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.