بے محل ہے گفتگو ہیں بے اثر اشعار ابھی

حبیب تنویر

بے محل ہے گفتگو ہیں بے اثر اشعار ابھی

حبیب تنویر

MORE BYحبیب تنویر

    بے محل ہے گفتگو ہیں بے اثر اشعار ابھی

    زندگی بے لطف ہے نا پختہ ہیں افکار ابھی

    پوچھتے رہتے ہیں غیروں سے ابھی تک میرا حال

    آپ تک پہنچے نہیں شاید مرے اشعار ابھی

    زندگی گزری ابھی اس آگ کے گرداب میں

    دل سے کیوں جانے لگی حرص لب و رخسار ابھی

    ہاں یہ سچ ہے سر بسر کھوئے گئے ہیں عقل و ہوش

    دل میں دھڑکن ہے ابھی دل تو ہے خود مختار ابھی

    کیوں نہ کر لوں اور ابھی سیر بہار لالہ زار

    میں نہیں محسوس کرتا ہوں نحیف و زار ابھی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY