بے سبب ہم سے وہ ہو کر جو خفا بیٹھے ہیں

شاہ  اکبر داناپوری

بے سبب ہم سے وہ ہو کر جو خفا بیٹھے ہیں

شاہ اکبر داناپوری

MORE BYشاہ اکبر داناپوری

    بے سبب ہم سے وہ ہو کر جو خفا بیٹھے ہیں

    ہم بھی دل ان کی طرف سے اب اٹھا بیٹھے ہیں

    کر لیا کرتے ہیں کعبے کو اسی جا سے سلام

    اے صنم جب سے ترے کوچے میں آ بیٹھے ہیں

    کفر و اسلام کے جھگڑے سے رہائی پائی

    جب سے دل اک بت کافر سے لگا بیٹھے ہیں

    کیا ہی آرام کی جا شہر خموشاں ہے وہ

    امن میں ہیں جو یہاں چین سے آ بیٹھے ہیں

    ناک میں کشمکش شیخ و برہمن سے ہے دم

    کعبہ و دیر سے ہم ہاتھ اٹھا بیٹھے ہیں

    وہ ہمیں جلد کریں قتل خدا دے توفیق

    ہم بہت روز سے جینے سے خفا بیٹھے ہیں

    صدمۂ داغ عزیزاں نہ اٹھانے پائے

    کیا ہی خوش ہیں جو وہاں پہلے سے جا بیٹھے ہیں

    اے فلک ہم کہیں دبتے ہیں ترے جوروں سے

    ہم اٹھائے ہوئے اک بت کی جفا بیٹھے ہیں

    چلئے تو لے چلیں ہاتھوں پہ پھپولے کی طرح

    کیا ہوا مہدی اگر آپ لگا بیٹھے ہیں

    ایک ساعت تری جانب سے نہیں منہ پھرتا

    اپنے گھر میں صفت قبلہ نما بیٹھے ہیں

    عشق کی بادیہ پیمائی ہے تکمیل اکبرؔ

    توڑ کر پاؤں بھلا آپ یہ کیا بیٹھے ہیں

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Jashn-e-Rekhta | 2-3-4 December 2022 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate, New Delhi

    GET YOUR FREE PASS
    بولیے