بے سہاروں کا انتظام کرو

حفیظ میرٹھی

بے سہاروں کا انتظام کرو

حفیظ میرٹھی

MORE BY حفیظ میرٹھی

    بے سہاروں کا انتظام کرو

    یعنی اک اور قتل عام کرو

    خیر خواہوں کا مشورہ یہ ہے

    ٹھوکریں کھاؤ اور سلام کرو

    دب کے رہنا ہمیں نہیں منظور

    ظالمو جاؤ اپنا کام کرو

    خواہشیں جانے کس طرف لے جائیں

    خواہشوں کو نہ بے لگام کرو

    میزبانوں میں ہو جہاں ان بن

    ایسی بستی میں مت قیام کرو

    آپ چھٹ جائیں گے ہوس والے

    تم ذرا بے رخی کو عام کرو

    ڈھونڈتے ہو گروں پڑوں کو کیوں

    اڑنے والوں کو زیر دام کرو

    دینے والا بڑائی بھی دے گا

    تم سمائی کا اہتمام کرو

    بد دعا دے کے چل دیا وہ فقیر

    کہہ دیا تھا کہ کوئی کام کرو

    یہ ہنر بھی بڑا ضروری ہے

    کتنا جھک کر کسے سلام کرو

    سرپھروں میں ابھی حرارت ہے

    ان جیالوں کا احترام کرو

    سانپ آپس میں کہہ رہے ہیں حفیظؔ

    آستینوں کا انتظام کرو

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY