بیچ منجدھار دیا بڑھ کے سہارا کس نے

ظفر گورکھپوری

بیچ منجدھار دیا بڑھ کے سہارا کس نے

ظفر گورکھپوری

MORE BYظفر گورکھپوری

    بیچ منجدھار دیا بڑھ کے سہارا کس نے

    ہم تو تنہا تھے ہمیں پار اتارا کس نے

    زندگی تجھ کو شب و روز کے دوزخ میں ترے

    جس طرح ہم نے گزارا ہے گزارا کس نے

    حال اب یہ کہ اندھیرا مرے خوں کا پیاسا

    رکھ دیا ہے مری مٹھی میں ستارہ کس نے

    سر بریدہ کوئی بچہ مرے اندر ہر روز

    پوچھتا رہتا ہے مجھ سے مجھے مارا کس نے

    پاؤں لگ جائیں تصور کو تو ہم چل نکلیں

    ہم کو خوابوں کی گزر گہہ سے پکارا کس نے

    عشق نقصان کا سودا تھا ظفرؔ میرے بعد

    جانے برداشت کیا میرا خسارہ کس نے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY