بھاگا تو بہت تھا موت سے میں کم بخت نے لیکن آن لیا

شاد عظیم آبادی

بھاگا تو بہت تھا موت سے میں کم بخت نے لیکن آن لیا

شاد عظیم آبادی

MORE BYشاد عظیم آبادی

    بھاگا تو بہت تھا موت سے میں کم بخت نے لیکن آن لیا

    ان لاکھوں ہی مرنے والوں میں کیا جلد مجھے پہچان لیا

    جب قتل ہوا میں تڑپا بھی چھینٹیں بھی اڑائیں مان لیا

    الزام خود اس پر کیا یہ نہیں دامن کو نہ کیوں گردان لیا

    تو عام فریبی مجھ سے نہ کر ہم مرد ہیں سن لے اے دنیا

    جو منہ سے کہا وہ کر گزرے جو ٹھان لیا وہ ٹھان لیا

    اقسام تھے یاس و حسرت کے اصناف امید بے حد کے

    جب چلنے لگے ہم دنیا سے ساتھ اپنے بہت سامان لیا

    جس ہاتھ سے مجھ کو قتل کیا اس ہاتھ کا کلمہ پڑھوایا

    لی جان تو خیر احسان کیا قاتل نے مگر ایمان لیا

    مے خانہ ہے جائے عیش و طرب یاں بیٹھ کے رونا کیا معنی

    کیا مفت کا اپنے سر تو نے اے دیدۂ تر طوفان لیا

    اس گھر میں کرم جب تو نے کیا کچھ دیر ٹھہر اے تیر نظر

    بوسہ ترے قدموں کا دل نے کس شوق سے اے مہمان لیا

    آرام طلب ہونے کا گماں جویا پہ ترے لاحول ولا

    تب پاؤں کو توڑے بیٹھا ہوں جب دشت و جبل کو چھان لیا

    جس بھیس میں تو ہو کیا پروا آئندہ نہ کھائے گی دھوکا

    اے طالب دنیا دنیا نے ہر طرح تجھے پہچان لیا

    تھی دھار رگ گردن پہ مری سینہ بھی دبا تھا قدموں سے

    خنجر کا ترے بوسہ ہم نے منہ پھیر کے تا‌ امکان لیا

    اے شادؔ عبث ہے اس کا گلا وہ ہجو کرے یا تجھ سے پھرے

    تا حشر رہا شاگرد ترا استاد تجھے جب مان لیا

    مآخذ:

    • کتاب : Dewan-e-shad Azimabadi (Pg. 69)
    • Author : Shad Azimabadi
    • مطبع : Educational Publishing House (2005)
    • اشاعت : 2005

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY