بھلا ہو جس کام میں کسی کا تو اس میں وقفہ نہ کیجئے گا

حبیب موسوی

بھلا ہو جس کام میں کسی کا تو اس میں وقفہ نہ کیجئے گا

حبیب موسوی

MORE BYحبیب موسوی

    بھلا ہو جس کام میں کسی کا تو اس میں وقفہ نہ کیجئے گا

    خیال زحمت نہ کیجئے گا ملال ایذا نہ کیجئے گا

    وہ مجھ سے فرما رہے ہیں ہنس کر ہمیشہ ملنے کی آرزو پر

    ملال ہوگا محال شے کی کبھی تمنا نہ کیجئے گا

    حباب ہے زندگی کا نقشہ کہاں کا دن ماہ و سال کیسا

    ہوا ہے یہ دم کا کیا بھروسہ امید فردا نہ کیجئے گا

    کیا تو ہے عشق حضرت دل لیا ہے سر پر یہ بار مشکل

    ہوا اگر مدعا نہ حاصل تو راز افشا نہ کیجئے گا

    جو آپ آئیں پئے عیادت یقیں ہے ہو جائے مجھ کو صحت

    مگر برائے خدا یہ زحمت کبھی گوارہ نہ کیجئے گا

    جو اہل دنیا کے تھے مخالف ہوئے وہ دنیا کے اور نہ دیں کے

    سمجھیے اب خاتمہ ہے دیں کا جو فکر دنیا نہ کیجئے گا

    یہ قاعدہ رسم و راہ کا ہے خیال دونوں طرف ہو یکساں

    کسی کو پروا نہ ہوگی جس دم کسی کی پروا نہ کیجئے گا

    تعلق اہل جہاں سے ہو گر تو رکھیے بیم و رجا برابر

    سوا خدا کے کسی کے اوپر کبھی بھروسہ نہ کیجئے گا

    عزیز ہے جوہر امانت کسی سے الفت ہو یا عداوت

    اگر ہے کچھ غیرت شرافت تو راز افشا نہ کیجئے گا

    بیان کی احتیاج ہے کب رہا ہے صرف ایک حرف مطلب

    حبیبؔ کا درد دل سنا سب اب اس کا چارہ نہ کیجئے گا

    مآخذ:

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY