بھلا کب تک یوںہی یہ کار ایثاری کریں گے ہم
بھلا کب تک یوںہی یہ کار ایثاری کریں گے ہم
کہ وہ چوری کیے جائیں گے اور یاری کریں گے ہم
خلوص خواب و خواہش اب کسی کو خوش نہیں آتا
چلو اچھا ہے آئندہ اداکاری کریں گے ہم
وہ خوشبو ہے تو اس کو چوم کر رکھ لیں گے سینے میں
وہ نشہ ہے تو اپنے آپ پر طاری کریں گے ہم
بہت معصوم ہو تم لیکن اتنا تو سمجھ ہی لو
تم ایسوں سے بھلا کیا کوئی عیاری کریں گے ہم
خمار خواب سے آگے ہی چلنا ہو گیا دوبھر
تمنا کی یہ گٹھری اور کیا بھاری کریں گے ہم
زباں پر ایک مدت سے کسیلا پن تو ہے لیکن
اب ایسا بھی نہیں ہر سمت منہ ماری کریں گے ہم
بہت دن ہو گئے ہیں جاگتی آنکھوں کے خوابوں میں
اب اپنی نیند میں تھوڑی سی بے داری کریں گے ہم
- کتاب : محبت جب نہیں ہوگی (Pg. 108)
- Author : آفتاب حسین
- مطبع : ریختہ پبلی کیشنز (2022)
- اشاعت : 2nd
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.