بھٹک رہی ہے اندھیروں میں آنکھ دیکھے کیا

شاہد ماہلی

بھٹک رہی ہے اندھیروں میں آنکھ دیکھے کیا

شاہد ماہلی

MORE BY شاہد ماہلی

    بھٹک رہی ہے اندھیروں میں آنکھ دیکھے کیا

    رکی ہے سوچ کہ اب اور آگے سوچے کیا

    ہر ایک راہ ہے سنسان ہر گلی خاموش

    یہ شہر شہر خموشاں ہے کوئی بولے کیا

    بجھی بجھی سی تمنا تھکی تھکی سی امید

    اب اور یاس کے صحرا میں کوئی چاہے کیا

    ہوئی ہے صبح سے کس طرح شام شام سے صبح

    جو میری جان پہ گزری ہے کوئی سمجھے کیا

    ہر ایک فرد ہے یاں اپنی اپنی سوچ میں گم

    جواب خود سے گریزاں سوال پوچھے کیا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY