بھید پائیں تو رہ یار میں گم ہو جائیں

احمد فراز

بھید پائیں تو رہ یار میں گم ہو جائیں

احمد فراز

MORE BYاحمد فراز

    بھید پائیں تو رہ یار میں گم ہو جائیں

    ورنہ کس واسطے بے کار میں گم ہو جائیں

    کیا کریں عرض تمنا کہ تجھے دیکھتے ہی

    لفظ پیرایۂ اظہار میں گم ہو جائیں

    یہ نہ ہو تم بھی کسی بھیڑ میں کھو جاؤ کہیں

    یہ نہ ہو ہم کسی بازار میں گم ہو جائیں

    کس طرح تجھ سے کہیں کتنا بھلا لگتا ہے

    تجھ کو دیکھیں ترے دیدار میں گم ہو جائیں

    ہم ترے شوق میں یوں خود کو گنوا بیٹھے ہیں

    جیسے بچے کسی تیوہار میں گم ہو جائیں

    پیچ اتنے بھی نہ دو کرمک ریشم کی طرح

    دیکھنا سر ہی نہ دستار میں گم ہو جائیں

    ایسا آشوب زمانہ ہے کہ ڈر لگتا ہے

    دل کے مضموں ہی نہ اشعار میں گم ہو جائیں

    شہریاروں کے بلاوے بہت آتے ہیں فرازؔ

    یہ نہ ہو آپ بھی دربار میں گم ہو جائیں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY