بھیگا ہوا ہے آنچل آنکھوں میں بھی نمی ہے

سبیلہ انعام صدیقی

بھیگا ہوا ہے آنچل آنکھوں میں بھی نمی ہے

سبیلہ انعام صدیقی

MORE BYسبیلہ انعام صدیقی

    بھیگا ہوا ہے آنچل آنکھوں میں بھی نمی ہے

    پھیلا ہوا ہے کاجل آنکھوں میں بھی نمی ہے

    برسے گا آج کھل کر بے چین و مضطرب ہوں

    چھایا ہے غم کا بادل آنکھوں میں بھی نمی ہے

    کیسی عجیب حالت طاری ہوئی ہے دل پر

    ہوں منتظر مسلسل آنکھوں میں بھی نمی ہے

    مدت کے بعد آیا دنیائے دل میں کوئی

    صحرا ہوا ہے جل تھل آنکھوں میں بھی نمی ہے

    یہ خود سپردگی کا ہے اک عجیب عالم

    خوابوں کا جیسے جنگل آنکھوں میں بھی نمی ہے

    محسوس ہو رہا ہے اک جال میں ہوں کب سے

    یہ عشق ہے کہ دلدل آنکھوں میں بھی نمی ہے

    اک حرف حق کے بدلے چڑھتے ہیں کتنے سولی

    شہر وفا ہے مقتل آنکھوں میں بھی نمی ہے

    اک دن سخن کی ملکہ بن جاؤ گی سبیلہؔ

    پھر آج کیوں ہو بے کل آنکھوں میں بھی نمی ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY