بھینی خوشبو سلگتی سانسوں میں

آشفتہ چنگیزی

بھینی خوشبو سلگتی سانسوں میں

آشفتہ چنگیزی

MORE BY آشفتہ چنگیزی

    بھینی خوشبو سلگتی سانسوں میں

    بجلیاں بھر گئی ہیں ہاتھوں میں

    صرف تیرا بدن چمکتا ہے

    کالی لمبی اداس راتوں میں

    کیا کیا چھینے گا اے امیر شہر

    اتنے منظر ہیں میری آنکھوں میں

    آنکھ کھلتے ہی بستیاں تاراج

    کوئی لذت نہیں ہے خوابوں میں

    بند ہیں آج سارے دروازے

    آگ روشن ہے سائبانوں میں

    وہ سزا دو کہ سب کو عبرت ہو

    بچ گیا ہے یہ خوشہ چینوں میں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY