بھول گیا خشکی میں روانی

ارمان نجمی

بھول گیا خشکی میں روانی

ارمان نجمی

MORE BYارمان نجمی

    بھول گیا خشکی میں روانی

    دریا میں تھا کتنا پانی

    گونج رہی ہے سناٹے میں

    ایک صدا جانی پہچانی

    سردی گرمی بارش پت جھڑ

    ساری رتیں ہیں آنی جانی

    یادیں ہاتھ چھڑا لیتی ہیں

    ہو جاتی ہے بات پرانی

    دونوں جلے بھی دونوں بجھے بھی

    ایک ہوئے جب آگ اور پانی

    پھر دکھ جی کو لگ جاتا ہے

    ساتھ نہیں دیتی حیرانی

    اندھیاروں کی عادی دنیا

    مانگے سورج سے تابانی

    اک لمحہ قدموں سے لپٹ کر

    لوٹ گئی موج امکانی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY