بچھڑ گئے تھے کسی روز کھیل کھیل میں ہم

شوزیب کاشر

بچھڑ گئے تھے کسی روز کھیل کھیل میں ہم

شوزیب کاشر

MORE BYشوزیب کاشر

    بچھڑ گئے تھے کسی روز کھیل کھیل میں ہم

    کہ ایک ساتھ نہیں چڑھ سکے تھے ریل میں ہم

    ذرا سا شور بغاوت اٹھا اور اس کے بعد

    وزیر تخت پہ بیٹھے تھے اور جیل میں ہم

    پتہ چلا وہ کوئی عام پینٹنگ نہیں ہے

    اور اس کو بیچنے والے تھے آج سیل میں ہم

    جفا کی ایک ہی تیلی سے کام ہو جاتا

    کہ پورے بھیگے ہوئے تھے انا کے تیل میں ہم

    جو شر پسند ہیں نفرت کے بیج بوتے رہیں

    جٹے رہیں گے محبت کی داغ بیل میں ہم

    بس ایک بار ہمارے دلوں کے تار ملے

    پھر اس کے بعد نہیں آئے تال میل میں ہم

    یہ شاعری تو مری جاں بس اک بہانہ ہے

    شریک یوں بھی نہیں ہوتے کھیل ویل میں ہم

    سخن کا توسن چالاک بے لگام نہیں

    ہمیں ہے پاس روایت سو ہیں نکیل میں ہم

    وہاں ہمارے قبیلوں میں جنگ چھڑ گئی تھی

    سو تھر کے بھاگے ہوئے آ بسے تھے کیل میں ہم

    یہ ایک دکھ تو کوئی مسئلہ نہیں کاشرؔ

    پلے بڑے ہیں اسی غم کی ریل پیل میں ہم

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY