بچھڑ گیا ہے تو اب اس سے کچھ گلا بھی نہیں

سعود عثمانی

بچھڑ گیا ہے تو اب اس سے کچھ گلا بھی نہیں

سعود عثمانی

MORE BY سعود عثمانی

    بچھڑ گیا ہے تو اب اس سے کچھ گلا بھی نہیں

    کہ سچ تو یہ ہے وہ اک شخص میرا تھا بھی نہیں

    میں چاہتا ہوں اسے اور چاہنے کے سوا

    مرے لیے تو کوئی اور راستا بھی نہیں

    عجیب راہ گزر تھی کہ جس پہ چلتے ہوئے

    قدم رکے بھی نہیں راستا کٹا بھی نہیں

    دھواں سا کچھ تو میاں برف سے بھی اٹھتا ہے

    سو دل جلوں کا یہ ایسا کوئی پتا بھی نہیں

    رگوں میں جمتے ہوئے خون کی طرح ہے سعودؔ

    وہ حرف ہجر جو اس نے ابھی کہا بھی نہیں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY